تنقید و تجزیہمنتخب
اردو غزل میں علامت کی تشکیل
غزل کی علامت محض آرائش نہیں، وہ معنی کی وہ گرہ ہے جس میں شاعر اپنے عہد کا کرب باندھ دیتا ہے۔
ڈاکٹر سلمیٰ نقوی1 منٹ کا مطالعہ
مطالعہ
Writing
مضامین، کالم، تنقیدی تحریریں اور ادبی مطالعات۔ ہر تحریر ادارتی جائزے کے بعد شائع کی جاتی ہے۔
غزل کی علامت محض آرائش نہیں، وہ معنی کی وہ گرہ ہے جس میں شاعر اپنے عہد کا کرب باندھ دیتا ہے۔
برسوں کی تجریدی مشق کے بعد اردو افسانہ ایک بار پھر کہانی کی طرف لوٹ رہا ہے — مگر اسی راستے سے نہیں۔
راگ کا وقت محض روایت نہیں، وہ سننے والے کے اندرونی وقت سے ایک معاہدہ ہے۔
ہر نسل کو لگتا ہے کہ زبان اس کے بعد بگڑ گئی۔ یہ احساس خود ایک لسانی مظہر ہے۔
میر کا غم شکایت نہیں کرتا؛ وہ صرف بیان کرتا ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی قوت ہے۔