سوشل میڈیا پر لکھی جانے والی اردو کو دیکھ کر اکثر یہ شکایت کی جاتی ہے کہ زبان تباہ ہو رہی ہے۔ لسانیات کا طالبِ علم اس شکایت کو ذرا مختلف نظر سے دیکھتا ہے۔
تبدیلی بمقابلہ بگاڑ
زبان کی ہر تبدیلی بگاڑ نہیں ہوتی۔ رومن اردو کا پھیلاؤ ایک حقیقت ہے، مگر یہ اردو کی جگہ نہیں لے رہا — یہ ایک متوازی نظامِ تحریر ہے جو مخصوص سیاق میں کام کرتا ہے۔
اصل مسئلہ
اصل تشویش املا کی معیاربندی کی کمی ہے۔ ایک ہی لفظ کے کئی املا رائج ہیں، اور تعلیمی اداروں میں اس پر اتفاق نہیں۔ یہ مسئلہ نسل کا نہیں، ادارہ سازی کا ہے۔
حل یہ نہیں کہ نئی نسل کو ملامت کیا جائے، بلکہ یہ کہ ایک قابلِ عمل معیار مرتب کر کے اسے قابلِ رسائی بنایا جائے۔