ستر اور اسی کی دہائی میں اردو افسانے نے کہانی سے دانستہ فاصلہ اختیار کیا۔ تجرید، علامت اور شعور کی رو نے بیانیہ کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ افسانہ ناقد کے لیے دلچسپ اور قاری کے لیے اجنبی ہوتا چلا گیا۔
واپسی کا سبب
نئی نسل کے افسانہ نگار اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کہانی سنانا کوئی کمتر فن نہیں۔ مگر ان کی واپسی سادہ لوحی کی طرف نہیں ہے۔ وہ بیانیہ کو برتتے ہیں، اس کے اسیر نہیں ہوتے۔
نئے اسلوب کے خدوخال
- واقعہ موجود ہے، مگر وہ نتیجہ نہیں سناتا۔
- کردار مکمل نہیں، مگر پہچانے جاتے ہیں۔
- زبان روزمرہ کے قریب ہے، مگر بے احتیاط نہیں۔
یہ رجحان ابھی تشکیل کے مرحلے میں ہے۔ اس پر فیصلہ صادر کرنا قبل از وقت ہوگا، مگر اتنا کہا جا سکتا ہے کہ اردو افسانہ ایک بار پھر اپنے قاری سے بات کرنے پر آمادہ ہے۔