نو رتنوں سے آگے: اکبر کا تہذیبی دربار

اقدس ہاشمی23 منٹ کا مطالعہ

جلال الدین محمد اکبر کو صرف ایک فاتح، وسیع سلطنت کے مالک یا مغلیہ تاج و تخت کے تیسرے فرمانروا کی حیثیت سے دیکھنا اس کی شخصیت اور اس کے عہد دونوں کو محدود کر دینا ہے۔ اس کی اصل تاریخی معنویت اس بات میں ہے کہ اس نے اقتدار کو محض فوجی قوت نہیں سمجھا بلکہ اسے انسانی صلاحیت، انتظامی تنظیم، علمی جستجو، تہذیبی تنوع، فنون کی سرپرستی اور سیاسی بصیرت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔ اس کے تقریباً انچاس سالہ عہد میں ایک ایسی سلطنت تشکیل پائی جو اس کے ابتدائی اقتدار کی نسبت کہیں زیادہ وسیع، منظم اور تہذیبی اعتبار سے متنوع تھی۔ اسی لیے اکبر کے دربار میں مشہور ’’نو رتن‘‘ کی روایت محض چند درباری شخصیات کی داستان نہیں بلکہ اس ذہنی رویے کی علامت بھی بن گئی ہے جس کے تحت بادشاہ نے مختلف میدانوں کے اہلِ کمال کو اپنے اقتدار کے دائرے میں جگہ دی۔ البتہ تاریخی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ ’’نو رتن‘‘ کو اکبر کے زمانے میں قائم ایک باقاعدہ نو رکنی ادارہ نہ سمجھا جائے معاصر بنیادی ماخذوں میں اس مخصوص نو رکنی جماعت کی واضح فہرست نہیں ملتی۔ بعد کی روایت نے اکبر کے ممتاز اہلِ دربار کو ’’نو رتن‘‘ کے خوب صورت استعارے میں جمع کر دیا۔

اکبر کی شخصیت کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ اس نے اقتدار ایک ایسے وقت میں سنبھالا جب مغلیہ اقتدار ابھی مستحکم نہیں ہوا تھا۔ 1556ء میں اپنے والد ہمایوں کی وفات کے وقت اکبر کی عمر تقریباً تیرہ یا چودہ برس تھی اور سلطنت کا دائرہ محدود اور سیاسی خطرات سے گھرا ہوا تھا۔ ابتدا میں بیرم خان نے اس کی نیابت اور فوجی امور سنبھالے لیکن 1560ء تک اکبر نے خود اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لی۔ اس کے بعد اس نے صرف اپنے آبائی اقتدار کی حفاظت نہیں کی بلکہ اسے مسلسل وسعت دی۔ مالوہ، راجپوتانہ کے اہم قلعے، گجرات، بنگال، کشمیر، سندھ، کابل اور قندھار سے لے کر دکن کے بعض علاقوں تک اس کی فتوحات نے مغلیہ اقتدار کو ایک وسیع سلطنت میں تبدیل کر دیا۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی وسیع سلطنت محض تلوار کے زور پر کیسے قائم رہ سکتی تھی؟ جنگ کسی علاقے کو فتح کر سکتی ہے لیکن اسے طویل عرصے تک سلطنت کا حصہ رکھنے کے لیے انتظام، مقامی اشرافیہ کی شمولیت، مالیاتی نظام، سیاسی مفاہمت اور ایک قابلِ قبول شاہی نظریے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اکبر کی سیاسی بصیرت کا بڑا حصہ اسی مقام پر سامنے آتا ہے۔ اس نے راجپوت حکمرانوں اور دوسرے مقامی اشرافیہ کو ہر صورت میں دشمن بنا کر رکھنے کے بجائے متعدد مواقع پر انہیں شاہی نظام میں شامل کیا۔ 1562ء میں امبر کے راجا بھرمَل کے خاندان سے ازدواجی تعلق اور راجپوتوں کو مغلیہ انتظامیہ اور فوج میں اہم مناصب دینا اسی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔ ایرانیکا کے مطابق اکبر نے مختلف نئے اشرافی گروہوں کو اپنی حکمران اشرافیہ میں شامل کیا اور راجپوتوں سمیت غیر مسلم ہندوستانی اہلِ اقتدار کو مغلیہ بیوروکریسی میں جگہ دی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اکبر کے دربار اور اس کے ’’نو رتن‘‘ کی روایت کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ سامنے آتا ہے۔ اگر ہم اس روایت میں شامل شخصیات کو دیکھیں تو ان کی اہمیت صرف اس وجہ سے نہیں کہ وہ بادشاہ کے پسندیدہ لوگ تھے بلکہ اس لیے بھی کہ وہ مختلف انسانی صلاحیتوں کی نمائندگی کرتے تھے۔ ابو الفضل علم، تاریخ، سیاست اور شاہی نظریے کے ترجمان تھے، فیضی فارسی شاعری اور علمی ترجمے کے نمائندہ تھے، تان سین ہندوستانی موسیقی کی عظیم روایت کے امین تھے، ٹوڈر مل انتظامی اور مالیاتی تنظیم سے وابستہ تھے، بیربل سیاسی قربت اور درباری دانش کے نمائندہ تھے، عبدالرحیم خانِ خاناں عسکری قیادت کے ساتھ ساتھ ادب و ثقافت کے سرپرست بھی تھے،جبکہ راجا مان سنگھ جیسے افراد مغلیہ سلطنت میں علاقائی اشرافیہ کی شمولیت کی مثال بنے ان کے علاوہ فقیر عزالدین اور ملا دو پیازہ کے نام بھی اس منطرنامے کا حصہ ہیں۔ اگرچہ مختلف ماخذوں میں فہرست کے نام بدل جاتے ہیں۔ خاص طور پر ملا دو پیازہ کے تاریخی وجود پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔ یہی اختلاف اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ’’نو رتن‘‘ کو لفظی اور قطعی تاریخی حقیقت سمجھنے کے بجائے اکبر کے وسیع اور متنوع دربار کی ایک مقبول علامت سمجھنا زیادہ درست ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اکبر کے اپنے زمانے کی اہم تاریخی تصانیف، مثلاً ابوالفضل کی اکبرنامہ اور آئینِ اکبری، اس مخصوص ’’نو رتن‘‘ جماعت کا ذکر نہیں کرتیں۔ اس اعتبار سے ’’نو رتن‘‘ کی روایت دراصل ایک ایسے دربار کی علامتی تصویر ہے جس میں تلوار کے ساتھ قلم، حساب کے ساتھ شاعری، موسیقی کے ساتھ سیاست اور علم کے ساتھ انتظام موجود تھا۔

اکبر کے سیاسی نظام کی کامیابی میں ٹوڈر مل کی مثال خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ایک بڑی سلطنت کے لیے مستقل آمدنی ناگزیر ہوتی ہے۔ اکبر نے زمین اور پیداوار کے حساب، پیمائش، قیمتوں اور گزشتہ برسوں کے اوسط کی بنیاد پر محصول کے نظام کو منظم کرنے کی کوشش کی۔ 1579-80ء کے قریب دس سالہ اوسط پر مبنی جس مالیاتی نظام کو منظم شکل دی گئی اس میں پیداوار، قیمتوں، زیرِ کاشت رقبے اور محصول کے باقاعدہ حسابات شامل تھے۔ ایرانیکا کے مطابق اس نظام نے جہاں مکمل طور پر نافذ کیا گیا وہاں ریاست کو مستحکم آمدنی اور کسانوں کو نسبتاً زیادہ قابلِ پیش بینی مالیاتی ماحول فراہم کیا۔ اس انتظامی بصیرت کو اکبر کی سیاسی وسعت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ فتوحات سے سلطنت پھیلتی ہے لیکن انتظامی اداروں سے سلطنت قائم رہتی ہے۔ اکبر نے منصب داری، مالیاتی نظم، صوبائی انتظام اور شاہی دربار کو ایک ایسے نظام میں مربوط کرنے کی کوشش کی جس میں بادشاہ کے اختیار کو مرکزیت حاصل تھی۔ اس کی اصلاحات ہر جگہ یکساں طور پر کامیاب نہیں ہوئیں اور بعض علاقوں میں مقامی طاقتیں برقرار رہیں لیکن مجموعی طور پر اس کے دور میں مغلیہ حکومت کے وہ ادارہ جاتی نمونے تشکیل پائے جنہیں بعد کے مغل بادشاہوں نے بھی آگے بڑھایا۔ ایرانیکا کے مطابق اکبر کی بڑی اصلاحات میں محصول، اشرافیہ کی تنظیم و نگرانی اور ریاست و مذہبی ادارے کے تعلق کی ازسرنو تشکیل نمایاں تھیں۔

اکبر کی سیاسی بصیرت کا دوسرا اہم پہلو مذہبی اور تہذیبی تنوع کے ساتھ اس کا معاملہ تھا۔ اس معاملے میں بھی اسے محض ایک ’’روادار‘‘ بادشاہ کہہ دینا کافی نہیں اس کی پالیسی وقت کے ساتھ تبدیل ہوئی۔ ابتدائی زمانے میں وہ سنی مسلمان بادشاہ تھا اور روایتی مذہبی اداروں کو اہمیت دیتا تھا لیکن بعد کے برسوں میں اس کی فکری دلچسپی وسیع ہوتی گئی۔ فتح پور سیکری میں عبادت خانہ قائم ہواجہاں مذہبی مباحث کا سلسلہ شروع ہوا اور بعد میں مختلف مذہبی روایتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ان مباحث میں شریک ہوئے۔ متھ، جین، عیسائی، یہودی، زرتشتی اور مختلف مسلم مکاتبِ فکر کے نمائندوں کے ساتھ گفتگو نے اکبر کے فکری افق کو وسعت دی۔ میٹروپولیٹن میوزیم کے مطابق 1582ء تک اکبر نے مذہبی معاملات میں ایک نئے ضابطۂ عمل کی طرف پیش قدمی کی اور اس کے دربار میں مختلف مذہبی نمائندوں کے درمیان مباحث ہونے لگے تھے۔

یہاں ’’صلحِ کل‘‘ کا تصور بھی اہم ہے۔ اکبر کے لیے وسیع سلطنت صرف ایک مذہبی یا نسلی گروہ کی سلطنت نہیں تھی۔ ایک ایسی ریاست جس کی آبادی کی اکثریت ہندو ہو اور جس میں مسلمان، راجپوت، ایرانی، ترک، افغان، مختلف ہندوستانی گروہ اور دیگر مذہبی برادریاں شامل ہوں اسے محض ایک محدود طبقے کی سیاسی وفاداری سے نہیں چلایا جا سکتا تھا۔ اسی لیے اس کے سیاسی نظام میں ایسی زبان اور ادارہ جاتی طریقے پیدا ہوئے جن سے مختلف گروہوں کو شاہی نظام میں شامل کیا جا سکے۔ ایرانیکا کے مطابق اکبر نے نئی اشرافی قوتوں کو حکمران طبقے میں شامل کیا اور اس کے دربار میں ہندو اہل کاروں کی تعداد اور اہمیت نمایاں ہوئی۔ لیکن اکبر کی عظمت صرف سیاسی حکمتِ عملی تک محدود نہیں تھی۔ اس کی شخصیت میں ایک غیر معمولی جمالیاتی شعور بھی دکھائی دیتا ہے۔ اسے فن، فن کار، عمارت، کتاب، تصویر، موسیقی، خطاطی اور داستان گوئی میں دلچسپی تھی۔ یہاں ’’جمالیاتی بصیرت‘‘ سے مراد محض خوب صورت چیزوں کی پسند نہیں بلکہ یہ احساس ہے کہ فن ریاست کی تہذیبی شناخت تشکیل دے سکتا ہے۔ اکبر کے دور میں مغلیہ مصوری کی وہ روایت مضبوط ہوئی جو بعد میں جہانگیر اور شاہ جہاں کے زمانے میں مزید نکھری۔ میٹروپولیٹن میوزیم کے مطابق اکبر مغل فنون کا پہلا عظیم شاہی سرپرست تھا اور اس نے ایک باقاعدہ شاہی مصور خانہ قائم کیا جہاں فارسی، ہندوستانی اور یورپی عناصر ایک دوسرے سے ملنے لگے۔

یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ اکبر کے مصور خانے میں صرف ایک ثقافتی روایت کے لوگ نہیں تھے۔ فارسی مصور ہندوستانی فن کاروں کے ساتھ کام کرتے تھے، ہندو اور مسلمان فن کار ایک ہی شاہی منصوبے کا حصہ بنتے تھے اور یورپی فن کے بعض عناصر بھی مغلیہ تصویری زبان میں داخل ہونے لگے۔ وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم کے مطابق ایران سے آنے والے فن کار اپنے ساتھ رنگوں کے استعمال اور تفصیل نگاری کے نئے رجحانات لائے جبکہ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے فن کار اپنی مقامی روایات بھی ساتھ لائے۔ نتیجہ ایک ایسا مرکب فن تھا جسے بعد میں مغلیہ مصوری کی مخصوص شناخت حاصل ہوئی۔

اکبر کے لیے فن کار محض ایک معمولی کاریگر نہیں تھا۔ اس کے دربار میں فن کار کی سماجی حیثیت میں تبدیلی کے آثار بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ جدید تحقیق کے مطابق مغلیہ مصوری کے شاہی کارخانوں میں کام کرنے والے فن کاروں نے رفتہ رفتہ اپنی انفرادی شناخت قائم کی اور بعض فن کاروں نے اپنے آپ کو شاہی مصوری کے مناظر میں بھی شامل کیا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فن کار کی حیثیت محض گمنام کاریگر سے آگے بڑھ کر شاہی تہذیب کے تخلیق کار کی حیثیت اختیار کر رہی تھی۔ اکبر کی تعمیرات بھی اس کے جمالیاتی شعور کا بڑا مظہر ہیں۔ فتح پور سیکری صرف ایک دارالحکومت نہیں تھا وہ ایک تہذیبی تصور کی مادی صورت تھی۔ 1571ء سے 1585ء کے درمیان تعمیر ہونے والے اس شہر کی عمارتوں میں وسط ایشیائی اور ایرانی تیموری روایات کے ساتھ ہندوستانی ہندو اور مسلم معماری عناصر کا امتزاج نظر آتا ہے۔ سرخ پتھر کی عمارتیں، وسیع صحن، ستون، چھتریاں، جالی دار کام، بلند دروازہ اور مقامی تعمیراتی عناصر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اکبر کے عہد میں شاہی فنِ تعمیر کسی ایک ثقافتی سانچے کی نقل نہیں تھا بلکہ مختلف روایات کو باہم ملا کر ایک نئی شاہی زبان پیدا کر رہا تھا۔

اکبر کے جمالیاتی شعور کی ایک اور بڑی مثال کتاب ہے۔ اس کے دور میں کتاب محض متن نہیں رہی بلکہ متن، خطاطی، مصوری، کاغذ، جلد سازی اور شاہی سرپرستی کے مجموعے کی حیثیت اختیار کرتی گئی۔" حمزہ نامہ" جیسے عظیم منصوبوں نے مصوری اور داستان کو ایک دوسرے سے جوڑا۔ سنسکرت کے متون کے فارسی تراجم نے ہندوستانی علمی روایت کو مغلیہ دربار کی فارسی علمی دنیا کے قریب کیا۔ یوں کتاب ایک ایسا پل بن گئی جس پر مختلف زبانیں، مذاہب، فنون اور علمی روایات ایک دوسرے سے ملاقات کرتی تھیں۔یہاں اکبر کی اپنی تعلیم کا سوال نہایت دلچسپ ہے۔ عام طور پر تاریخ کی کتابوں میں یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ اکبر پڑھنا لکھنا نہیں سیکھ سکا تھا اور معاصر و بعد کے ماخذوں میں اسے ’’اَن پڑھ‘‘ یا ایسا شخص قرار دیا گیا ہے جو خود تحریر نہیں پڑھ سکتا تھا۔ میٹروپولیٹن میوزیم بھی اسے ایسے فرمانروا کے طور پر بیان کرتا ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ خواندہ نہیں تھا۔ ایک قدیم تاریخی مطالعے میں جہانگیر سے منسوب بیان کی بنیاد پر بھی یہی کہا گیا ہے کہ اکبر پڑھنے لکھنے کی رسمی صلاحیت حاصل نہ کر سکا۔ لیکن ’’اکبر اَن پڑھ تھا‘‘ کو ’’اکبر جاہل تھا‘‘ سمجھ لینا تاریخی طور پر ایک بڑی غلطی ہوگی۔ یہ دونوں تصورات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ اکبر نے رسمی خواندگی حاصل نہ کی ہو لیکن اس نے اپنی پوری زندگی اہلِ علم، شعراء، مورخین، مترجمین، مذہبی مفکرین، فن کاروں، سپہ سالاروں اور منتظمین کے درمیان گزاری۔ اسے کتابیں سنائی جاتی تھیں، علمی مباحث میں حصہ لیتا تھا، سوالات کرتا تھا، مختلف آرا ءسنتا تھا اور حافظے کے ذریعے بڑی مقدار میں معلومات اپنے ذہن میں محفوظ کرتا تھا۔ ایک تاریخی ماخذ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کے استاد عبداللطیف نے اسے حافظے سے حافظؔ کی غزلیں یاد کرنے اور صوفیانہ شاعری سے شغف پیدا کرنے میں مدد دی۔ اکبر کی یہ غیر رسمی تعلیم شاید اس کی شخصیت کی سب سے منفرد جہتوں میں سے ایک تھی۔ عام بادشاہ علم کو کتاب کے ذریعے حاصل کرتا ہےاکبر نے بڑی حد تک انسانوں کے ذریعے حاصل کیا۔ اس کے دربار میں ایک طرح کی ’’زندہ یونیورسٹی‘‘ قائم ہو گئی تھی۔ ابو الفضل اس کے لیے تاریخ اور سیاست کا استاد تھا، فیضی شاعری اور فارسی علمی روایت کا نمائندہ، علما مذہبی علوم کے ماہر، ہندو پنڈت سنسکرت اور ہندوستانی فلسفے کے ترجمان، جین علماء اخلاقی اور مذہبی مباحث کے شریک، عیسائی پادری مسیحی الہیات کے نمائندہ جبکہ فن کار اور موسیقار جمالیاتی تجربے کے استاد تھے۔ اکبر نے رسمی مدرسے کی تعلیم نہ پانے کے باوجود اپنے دربار کو ایک ایسے علمی ماحول میں تبدیل کر دیا جہاں مختلف علوم براہِ راست اس کے سامنے آتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ اکبر کے بارے میں ’’اَن پڑھ بادشاہ‘‘ کا جملہ ادھوری تصویر پیش کرتا ہے۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ وہ رسمی معنوں میں خواندہ نہیں تھا لیکن علمی اور تہذیبی اعتبار سے غیر معمولی طور پر متجسس فرمانروا تھا۔ اس نے اپنے لیے علم کے دروازے کتاب پڑھ کر نہیں بلکہ اہلِ علم سے گفتگو، سماعت، سوال، مشاہدہ اور تجربے کے ذریعے کھولے۔ اس کی شخصیت میں کتابی علم اور عملی علم کے درمیان ایک خاص توازن دکھائی دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس بادشاہ نے خود روایتی خواندگی حاصل نہیں کی تھی اسی نے تعلیم کے نصاب اور طریقۂ تدریس پر غور کیا۔ "آئینِ اکبری" میں تعلیمی طریقوں کے بارے میں ایسی ہدایات ملتی ہیں جن میں حروف کی شناخت کے ساتھ ساتھ نثر، شاعری، اخلاقی اقوال، منطق، ریاضی، طب، تاریخ، حکمرانی اور دیگر علوم کی تعلیم کا ذکر ہے۔ ایک قدیم تعلیمی مطالعے میں آئینِ اکبری کی ان ہدایات کو نقل کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اکبر محض بہت سی کتابیں رٹنے کے بجائے ایسی تعلیم کی طرف توجہ دلاتا ہے جس میں مختلف عملی اور علمی شعبے شامل ہوں۔

یہاں اکبر کی شخصیت کا ایک نہایت خوب صورت تضاد سامنے آتا ہے جو شخص خود کتاب کا متن براہِ راست نہیں پڑھ سکتا تھا وہ کتاب کی تہذیبی قوت کو سمجھتا تھا، جو خود مصنف نہیں تھا اس نے اپنے عہد کے بڑے مورخ کو اپنے قریب رکھا،جو خود شاعر نہیں تھا اس نے فیضی جیسے شاعر کی سرپرستی کی، جو خود موسیقار نہیں تھا اس نے تان سین جیسے فن کار کو دربار میں بلند مقام دیا اور جو خود مصور نہیں تھا اس نے ایسا شاہی مصور خانہ قائم کیا جس نے ہندوستانی مصوری کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ شاید یہی ایک بڑے سرپرست کی اصل خوبی ہوتی ہے کہ وہ ہر فن خود نہیں جانتا مگر فن کی عظمت کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اکبر کے ’’نو رتن‘‘ کا تصور اسی لیے اتنا مقبول ہوا کہ یہ ایک بادشاہ کی اس صلاحیت کی علامت بن گیا جس کے سامنے مختلف انسان اپنی مختلف صلاحیتوں کے ساتھ نمایاں ہو سکتے تھے۔ اگر کسی بادشاہ کی عظمت صرف اس کی ذاتی ذہانت میں ہو تو اس کی سلطنت اس کے ذاتی وجود تک محدود رہتی ہے لیکن اگر وہ دوسروں کی ذہانت کو پہچاننے، استعمال کرنے اور سرپرستی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اس کی قوت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اکبر نے اسی اجتماعی ذہانت کو اپنی سلطنت کا حصہ بنایا۔ ابو الفضل اس تصور کی شاید سب سے روشن مثال ہے۔ وہ صرف تاریخ نویس نہیں تھا وہ اکبر کے سیاسی نظریے کو الفاظ دینے والا شخص بھی تھا۔ اکبرنامہ اور آئینِ اکبری نہ صرف اکبر کے عہد کے اہم ترین ماخذ ہیں بلکہ مغلیہ سلطنت کی سیاسی، انتظامی، معاشرتی اور معاشی ساخت کو سمجھنے کے بنیادی ذرائع بھی ہیں۔ ایرانیکا کے مطابق یہ دونوں تصانیف اکبر کے عہد اور مغلیہ سلطنت کے بنیادی ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے مرکزی اہمیت رکھتی ہیں اور آئینِ اکبری خصوصاً مغلیہ انتظام کے مطالعے کے لیے بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ فیضی اور ابو الفضل کی مثالیں یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ اکبر نے ’’صلاحیت‘‘ کو محض ایک فن تک محدود نہیں رکھا۔ فیضی شاعر تھا مگر ترجمے اور علمی منصوبوں سے بھی وابستہ ہوا۔ ابو الفضل مورخ تھا مگر ریاستی نظریے اور انتظامی دستاویزات کا مصنف بھی بن گیا۔ عبدالرحیم خانِ خاناں سپہ سالار تھا مگر ادب کا ذوق بھی رکھتا تھا۔ خود اس کے بعد کے دور میں خانِ خاناں کی سرپرستی میں رامائن کے ایک فارسی نسخے کی تصویری تیاری ہوئی جس میں 130 کے قریب مصوری کے مناظر شامل تھے۔ میٹروپولیٹن میوزیم اسے مغلیہ عہد کے اہم ذیلی شاہی سرپرستوں میں شمار کرتا ہے۔

اکبر کی جمالیاتی سیاست کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ اس نے ہندوستان کے مختلف حصوں سے فن کاروں اور کاریگروں کو شاہی کارخانوں میں جگہ دی۔ جب سلطنت پھیلی تو صرف فوجی طاقت نہیں پھیلی بلکہ فنون اور ہنر کو بھی وسعت ملی۔ وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم کے مطابق مختلف علاقوں کی فتوحات کے بعد فن کار اور کاریگر شاہی ورکشاپس میں داخل ہوتے گئے اور اپنے اپنے علاقائی اسالیب ساتھ لاتے گئے۔ یوں سیاسی توسیع نے ایک ثقافتی اختلاط کو بھی جنم دیا۔ یہاں اکبر کی سلطنت کی وسعت اور اس کے جمالیاتی شعور کے درمیان ایک نہایت اہم تعلق قائم ہوتا ہے۔ اگر سلطنت صرف زمین فتح کرتی تو وہ محض ایک فوجی سلطنت ہوتی لیکن جب فتح شدہ علاقوں کے فن کار، کاریگر، ادیب، مترجم، سپہ سالار اور مقامی اشرافیہ بھی شاہی نظام کا حصہ بننے لگے تو سلطنت ایک تہذیبی نظام میں تبدیل ہونے لگی۔ اسی لیے اکبر کے عہد کی مغلیہ تہذیب میں ایرانی، وسط ایشیائی اور ہندوستانی عناصر کا امتزاج اتنا نمایاں ہے۔ ایرانیکا اسے ایک وسیع تر Indo-Persian synthesis کے طور پر دیکھتا ہے جو مغلیہ سلطنت سے آگے بھی ہندوستانی تہذیب میں اثرانداز رہا۔

اکبر کی سیاسی کامیابی کو اس کے فنّی ذوق سے جدا کرنا بھی درست نہیں۔ فن اس کے لیے اقتدار کی جمالیاتی زبان تھا۔ فتح پور سیکری کا شہر، شاہی مصور خانہ، مصور مخطوطات، درباری موسیقی، شاہی کتب خانہ، ترجمہ منصوبے اور مختلف فنون کے ماہرین کی سرپرستی ایک ایسی سلطنت کی تصویر پیش کرتے ہیں جو اپنی شناخت صرف جنگی فتوحات سے نہیں بلکہ تہذیبی اظہار سے بھی بنانا چاہتی تھی۔ اس کے عہد میں شاہی طاقت نے ایک ایسی بصری اور ادبی زبان اختیار کی جس میں بادشاہ صرف فاتح نہیں بلکہ تہذیب کا سرپرست بھی دکھائی دیتا ہے۔

اس سلسلے میں اکبر کا طرزِ حکمرانی اس کے بعد آنے والے مغل تاجداروں سے بھی مختلف رنگ اختیار کرتا ہے اگرچہ ان کے درمیان تسلسل بھی موجود ہے۔ جہانگیر نے مصوری، قدرتی اشیا اور حقیقت پسندانہ تصویری اظہار کو غیر معمولی فروغ دیا ،شاہ جہاں نے تعمیرات اور شاہی جمالیات کو انتہائی رسمی اور شاندار شکل دی جبکہ اورنگزیب کے دور میں شاہی فنون کی سرپرستی کا انداز بدل گیا اور میٹروپولیٹن میوزیم کے مطابق اس کے عہد میں درباری موسیقی اور مصوری کی سرپرستی میں نمایاں کمی آئی۔ اس لیے اکبر کی انفرادیت یہ نہیں کہ وہ مغلوں میں واحد فن دوست بادشاہ تھا بلکہ یہ ہے کہ اس نے فن، علم، سیاست اور سلطنت سازی کو ایک ہی وسیع منصوبے میں جوڑنے کی ابتدائی اور بنیادی کوشش کی۔

اس پورے منظرنامے میں ’’نو رتن‘‘ دراصل نو افراد سے زیادہ ایک نظریہ بن جاتے ہیں۔ یہ نظریہ یہ ہے کہ بادشاہت کو صرف طاقتور فوج نہیں، طاقتور ذہن بھی درکار ہوتے ہیں۔ سلطنت کو صرف سپہ سالار نہیں، حساب دان بھی چاہیے ۔صرف قاضی نہیں شاعر بھی چاہیے۔ صرف وزیر نہیں مورخ بھی چاہیے۔ صرف قلعے نہیں خوب صورت شہر بھی چاہیے۔ صرف مذہبی علما نہیں مختلف تہذیبوں کے نمائندوں سے مکالمہ بھی چاہیے۔ اکبر کے دربار کی یہی کثیرالجہتی ساخت اسے محض ایک شاہی مجلس سے بڑھا کر ایک تہذیبی ادارہ بناتی ہے۔اکبر کی سلطنت کے پھیلاؤ میں جنگوں کا کردار اپنی جگہ بنیادی تھا لیکن جنگ کے بعد ’’قبولیت‘‘ پیدا کرنا شاید اس سے بھی زیادہ مشکل کام تھا۔ گجرات فتح کیا جا سکتا تھا لیکن اسے سلطنت کے مستقل مالیاتی نظام میں شامل کرنا الگ مسئلہ تھا۔ راجپوت قلعہ فتح کیا جا سکتا تھا لیکن راجپوت اشرافیہ کو شاہی نظام میں شامل کرنا سیاسی حکمت چاہتا تھا۔ بنگال کو زیرِ نگیں لایا جا سکتا تھا لیکن وہاں مؤثر انتظام قائم کرنا ایک الگ چیلنج تھا۔ کشمیر، سندھ، کابل اور دکن کے مختلف علاقوں کو سلطنت کے دائرے میں شامل کرنا صرف فوجی کارروائیوں کا نام نہیں بلکہ انتظامی تسلسل کا تقاضا تھا۔ اکبر کی کامیابی اسی مجموعی عمل میں دیکھی جا سکتی ہے۔

اس کے عہد کی طوالت بھی اس کے سیاسی تجربے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ 1556ء سے 1605ء تک تقریباً نصف صدی کے دوران اس نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلیاں کیں، تجربات کیے، ناکامیوں سے سیکھا اور اپنے اقتدار کے ڈھانچے کو مسلسل تشکیل دیا۔ ایرانیکا کے مطابق اکبر نے اپنے ابتدائی برسوں میں پہلے اپنے اقتدار کو مستحکم کیا پھر نئی اشرافی قوتوں کو شامل کیا اور اس کے بعد سلطنت کی انتظامی، مالیاتی اور مذہبی ساخت میں بڑی تبدیلیاں کیں۔ یہی تجرباتی مزاج شاید اکبر کی شخصیت کی سب سے اہم خصوصیت تھا۔ وہ ایک ایسی دنیا کا فرمانروا تھا جس میں ایک طرف وسط ایشیائی اور فارسی شاہی روایات تھیں اور دوسری طرف ہندوستان کی قدیم اور متنوع تہذیبی روایات۔ اس نے ان دونوں کو ایک دوسرے کا متبادل بنانے کے بجائے ان سے ایک نئی شاہی ثقافت بنانے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے عہد میں فارسی زبان سرکاری اور ادبی حیثیت سے مضبوط ہوئی مگر اسی کے ساتھ سنسکرت متون کے تراجم بھی ہوئے، ایرانی مصور دربار میں آئےمگر ہندوستانی فن کار بھی اسی شاہی نظام میں شامل ہوئے، مسلمان علماء کے ساتھ ہندو، جین اور عیسائی اہلِ علم بھی شاہی مباحث میں شریک ہوئے۔

آخرکار اکبر کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ بڑی سلطنتیں صرف بڑے لشکروں سے نہیں بنتیں۔ لشکر سرحد بڑھا سکتا ہے لیکن سلطنت کی عمر بڑھانے کے لیے ادارے، انسانی صلاحیتیں، سیاسی مفاہمت، معاشی نظم، ثقافتی اعتماد اور فکری وسعت درکار ہوتی ہے۔ اکبر نے ان عناصر کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش کی۔ اس نے انسانی ذہانت کو اپنے اقتدار کا اثاثہ بنایا اور اپنے دربار کو ایسی جگہ بننے دیا جہاں مختلف صلاحیتوں کے حامل لوگ اپنی اپنی شناخت کے ساتھ نمایاں ہو سکیں۔ اسی لیے ’’نو رتن‘‘ کی روایت خواہ اس کی تاریخی فہرست اور باقاعدہ نو رکنی حیثیت پر سوالات موجود ہوں، اکبر کے عہد کی ایک طاقتور علامت بن گئی۔

اکبر کا سب سے بڑا کمال شاید یہ نہیں تھا کہ اس کے پاس نو رتن تھے اصل کمال یہ تھا کہ وہ ’’رتن‘‘ پہچاننے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کسی سلطنت کی دولت صرف سونے، زمین اور قلعوں میں نہیں ہوتی بلکہ انسانوں کی صلاحیتوں میں بھی ہوتی ہے۔ اس نے سپہ سالار میں جنگی صلاحیت دیکھی، ٹوڈر مل میں انتظامی ذہانت، ابو الفضل میں فکری قوت، فیضی میں شعری اور علمی جمال، تان سین میں موسیقی کی روح، راجپوت امراء میں سیاسی طاقت اور مختلف مذہبی و تہذیبی حلقوں میں ایسے امکانات جو ایک وسیع سلطنت کو جوڑ سکتے تھے۔ یہی انسانی وسائل کی پہچان اس کی سیاسی بصیرت کا مرکزی وصف بن گئی۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اکبر کی بادشاہت کا سب سے خوب صورت استعارہ ’’نو رتن‘‘ نہیں بلکہ ’’دربار بطور تہذیبی کائنات‘‘ ہے۔ اس کائنات میں تلوار بھی تھی اور طنبورہ بھی، فرمان بھی تھا اور غزل بھی، قلعہ بھی تھا اور مصوری بھی، حساب بھی تھا اور فلسفہ بھی۔ اکبر نے ان متنوع عناصر کو ایک شاہی نظام میں جمع کیا اور یوں ایک ایسی تہذیب کی بنیاد رکھی جس کے اثرات اس کی وفات کے بعد بھی جہانگیر، شاہ جہاں اور آگے کی ہندوستانی فنون و ثقافت میں دکھائی دیتے رہے۔ مغلیہ سلطنت بعد کے ادوار میں مختلف سیاسی حالات سے گزری، اس کی طاقت بڑھی بھی اور کم بھی ہوئی لیکن اکبر کے عہد میں قائم ہونے والا Indo-Persian ثقافتی امتزاج ہندوستانی تاریخ کا ایک دیرپا ورثہ بن گیا۔

ماخذ ات

1۔ ابوالفضل علامی، اکبرنامہ۔

2۔ ابوالفضل علامی، آئینِ اکبری۔

3۔ Abu’l-Fazl, The Akbarnama, trans. H. Beveridge, Asiatic Society, Calcutta.

4۔ Abu’l-Fazl, The Ain-i-Akbari, trans. H. Blochmann and H. S. Jarrett.

5۔ Frit