ادبLiteratureمکمل شدہCompletedایم فلMPhil

رئیس فروغ کی شاعری میں جدیدیت کے عناصر کا مطالعہ

خلاصہ

جدیدیت کی تحریک ایک خاص مذہبی، تاریخی، سیاسی، معاشی اور سماجی پس منظر سے تشکیل پاتی ہے جس نے فرد کی آزادی و انفرادیت ، داخلی کرب اور نئے فکری و فنی طریقہ اظہار کو نمایاں کیا۔ جدیدیت ایک فکری و ذہنی میلان ہے جس نے ادب کو روایتی بندشوں سے آزاد کر کے نئے موضوعات، ہئیت اور اسالیب عطا کیے۔ اس کے نمایاں عناصر داخلیت، فردیت پسندی، انسان دوستی، علامت نگاری اور فطرت نگاری ہیں۔ جن کے ذریعے انسان کے باطنی احساسات، ذاتی تجربات، انفرادی شعور ، داخلی کرب اور فطرت کے ساتھ انسانی جذباتی تعلق کا مؤثر ادبی اظہار ملتا ہے۔ مجوزہ تحقیق جدیدیت کے عناصر کو نسیم نیشو فوز اور محمد حسن عسکری کے تحقیقی مضامین "جدیدیت کا پس منظر " اور "نشانہ ثانیہ جدیدیت کا آغاز " میں جدید نظریات کی روشنی میں رئیس فروغ کی شاعری پر منطبق کرتے ہوئے ان کی کلیات " رات بہت ہوا چلی " میں موجود جدید عناصر کا تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس تحقیق میں جدید شاعری کے فکری، فنی اور تکنیکی عناصر کا مؤثر تجزیہ کیا گیا جس سے جدید موضوعات، روایتی شعری رویوں سے انحراف، انفرادیت اور علامتی اظہار کو واضح کیا گیا ہے۔